27 مارچ 2011 - 19:30

یمن کی حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں میں شدت کے بعد اب فوجی جنرل اور افسران بھی انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہيں۔

ابنا: خبروں میں بتایا گیا ہے کہ یمن کی فوج کے متعدد جنرل اوربڑی تعداد میں فوجی جوان صنعا کے التغییر چوک پر انقلابیوں کے ساتھ جاملے ہيں۔ فوجی جنرلوں کے انقلابیوں کے ساتھ شامل ہوجانے کے بعد اب انقلابیوں کو یہ خوف نہيں رہا کہ یمنی حکومت ان کے مظاہروں کو کچلنے کے لئے فوج کا استعمال کرے گی ۔ انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہونے والے فوجیوں کا کہنا ہے کہ صنعا کے التغییر چوک پر ہونےوالے اجتماعات کی حفاظت کی ذمہ داری وہ سنبھالیں گے۔ دوسری طرف یمن کے صوبہ ابین کے شہر جعار میں اسلحے کے ایک ڈپو میں دھماکے سے کم ازکم چالیس افراد مارے گئے ہيں بتایا جاتا ہے اسلحہ کے اس ڈپو پر القاعدہ کے عناصر نے قبضہ کرلیا تھا ۔ شہر کی بلدیاتی کونسل کے ایک رکن محسن سالم سعید نے بتایا کہ القاعدہ کے افراد اس ڈپو کے اسلحے لوٹ لینے کے بعد وہاں سے چلے گئے تھے جس کے کچھ ہی دیر بعد یہ دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں آس پاس رہنےوالے چالیس عام شہری مارے گئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یمن میں فوج اور عوام کا ملاپ  یمن سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عوامی استقامت کو دیکھتے ہوئے سرکاری فورسز نے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے علی عبداللہ صالح کی بجائے عوام کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے اب یہ امید ہوچلی ہے کہ فرد واحد کی حکومت کو بچانے کے لئے عوام کو قربان نہیں کیا جائے گا۔ مظاہروں میں شدت کے بعد فوجی جنرل اور افسران با ضابطہ طور پرانقلابیوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہيں اور ااطلاعات ہیں کہ متعدد جنرل اوربڑی تعداد میں فوجی جوان صنعا کے التغییر چوک پر انقلابیوں کے ساتھ جاملے ہيں۔ انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہونے والے فوجیوں کا کہنا ہے کہ صنعا کے التغییر چوک پر ہونےوالے اجتماعات کی حفاظت کی ذمہ داری وہ سنبھالیں گے۔ مبصرین یہ خیال ظاہر کرہے ہیں کہ فوجی جنرلوں کے انقلابیوں کے ساتھ شامل ہوجانے کے بعد اب انقلابیوں کو یہ خوف نہيں رہا کہ یمنی حکومت ان کے مظاہروں کو کچلنے کے لئے فوج کا استعمال کرے گی ۔ ادہر عرب لیگ نے معمر قذافی اور علی عبداللہ صالح سے کہا ہے کہ وہ عوامی مطالبات کا احترام کرتے ہوئے اقتتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کردیں ۔ عرب لیگ کی پارلیمان کے سربراہ علی سالم دقباسی نے لیبیا کے ڈکٹیٹر معمرقذافی اور یمن کے صدر علی عبداللہ صالح سے باضابطہ درخواست کی ہے وہ اقتدار سے کنارہ کش ہوجائيں ۔ دقباسی نے کہا کہ قذافی اور عبداللہ صالح اپنے عہدوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے ملک میں خانہ جنگی کو بند کراسکتے ہيں ۔ عرب ليگ کی پارلیمان کے سربراہ نے کہا کہ عوام کے خلاف مختلف قسم کے ہتھیاروں کا استعمال عوام کو ان کے مطالبات سے نہیں روک سکے گا ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ یمن کے ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کی آمریت کے خاتمے کی الٹتی گنتی کا آغاز ہوچکا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110